کاروار20؍اگست (ایس او نیوز) گزشتہ سال ضلع ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری کیے گئے سخت ہدایات او ر منصوبے کے مطابق کچرانکاسی کے نظام پر عمل در آمد کا دعویٰ کرنے والے ادارے امسال بے پروائی اور کوتاہی کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں ۔ اس بات کو محسوس کرتے ہوئے آلودگی کنٹرو ل بورڈ کی طرف سے ایسے بلدی اداروں کو نوٹس جاری کیا جارہا ہے۔
ماحول کو پاک و صاف رکھنے کے لئے مقامی بلدی اداروں کو یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ سوکھا کچرا اور گیلا کچرا الگ الگ کرکے اسے ٹھکانے لگانے کا نظم کیا جائے۔ ہروارڈ میں اس کی نگرانی کے لئے ایک نوڈل آفیسر کا تقرر ہو۔ اس کے علاوہ کچرا ٹھکانے لگانے کے مرکز میں گلنے اور نہ گلنے والے کچرے کو چھانٹ کر الگ کرنے کی کارروائی پر نظر رکھنے کے لئے بلدیہ کی طر ف سے ایک آفیسر تعینات کیا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ ضلع ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں لیے گئے ان فیصلوں پر ابتداً کچھ مہینے تک پوری مستعدی کے ساتھ عمل درآمد شروع ہوگیاتھا۔لیکن اب مقامی بلدی اداروں کی طرف سے اس معاملے میں غفلت برتی جانے لگی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ آلودگی کنٹرول بورڈ کے افسران نے جب مختلف مقامات پر کچرا ٹھکانے لگانے کے مراکز کا معائنہ کیا تووہاں پر قوانین کی خلاف ورزی کے معاملات دیکھنے کو ملے۔اس لئے بورڈ نے ایسے بلدی اداروں کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر ملی ہے کہ بھٹکل ،کاروار ،انکولہ اور ہوناور کے بلدیہ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں، بقیہ دیگر اداروں کو جلد ہی نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
آلودگی کنٹرول بورڈ کا کہنا ہے کہ کچرا ٹھکانے لگانے کے ہر مرکز پر ایک سیانیٹری ٹینک تعمیر کرنا چاہیے جس میں بچوں کے ڈائپرس اور سیانیٹری نیاپکنس وغیرہ ڈال دینے ہوتے ہیں۔ صرف کاروار بلدیہ کی طرف سے اس ٹینک کی تعمیر ہوئی ہے مگراس کا استعمال صحیح ڈھنگ سے نہیں کیا جارہا ہے۔ بقیہ شہروں میں ٹینک تعمیر ہی نہیں کی گئی ہے۔سوکھے کچرے کے ساتھ ہی ان نیاپکنس کو ڈھیر میں جمع کردیا گیا ہے۔جبکہ ڈائپرس اور نیاپکنس میں پانی کی موجودگی کی وجہ سے جراثیم پیدا ہونے اور بیماریاں پھیلنے کے امکانا ت پائے جاتے ہیں۔بورڈ کے اراکین کا کہنا ہے کہ سوکھے کچرے کے ڈھیر میں 40 فیصد تک ڈائپرس اور نیاپکنس ہی پائے جاتے ہیں۔سوکھے کچرے کے ڈھیر بھی قوانین کو طاق پر رکھتے ہوئے غیر سائنٹفک انداز میں لگائے گئے ہیں۔ان کچروں کے ڈھیر پر بارش کا پانی گرنے کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔جو پلاسٹک ری سائکلنگ کے قابل نہیں ہوتا اسے سوکھے کچرے سے الگ بھی نہیں کیاجارہا ہے۔ہر قسم کے کچرے کو ایک ہی ڈھیر میں ڈال دیا جاتا ہے اور متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
بہت سے شہروں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کچرانکاسی مرکز کے اطراف جھاڑیاں اور پودے اگ آئے ہیں۔ جانوروں کو اندرجانے سے روکنے کے لئے کوئی باڑ نہیں لگائی گئی ہے۔ جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ری سائکلنگ کے قابل پلاسٹک اشیاء کو الگ کرکے اسے سڑکوں کی تعمیر کے لئے استعمال کرنا چاہیے یا پھر سیمنٹ کمپنیوں کو بھیج دینا چاہیے۔ کچرا نکاسی کے اطراف والے علاقے کو بفرژون(حساس علاقہ) قرار دیا جانا چاہیے۔اس طرح کی بے پروائی سامنے آنے کے بعدایسے تمام بلدی اداروں کو آلودگی بورڈ نے لازمی طور پر سیانیٹری ٹینک تعمیر کرنے اور دیگر کچھ اہم اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔